ان ننھی ننھی کلائیوں میں یہ مہندی آخری بار لگی ھے

ان ننھی ننھی کلائیوں میں یہ مہندی آخری بار لگی ھے

اب ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں کبھی رنگ برنگی چوڑیاں نہیں سجیں گی
گُل رنگ چوڑیوں اور حنا سے سجے یہ خُوبصورت پُھول جیسے ہاتھ میمونہ کے ہیں
حق نواز نامی شخص کی یہ معصوم بیٹی اپنی ہم عمر ننھی کلیوں کے ساتھ عید کی خُوشیاں منارہی تھی کہ نامعلوم سمت سے آنے والی ایک گولی نے ان ہونٹوں سے ہمیشہ کے لئے مسکراہٹ نوچ لی

اب یہ ہاتھ کبھی مہندی لگا سکیں گے نہ چوڑیاں پہن سکیں گے

ہوائی فائرنگ کی بے ہودہ غیر انسانی رسم نے اس گُڑیا سے ہمیشہ کے لئے یہ حق چھین لیا ھے، ایسے واقعات کو ایک حادثہ شُمار کیا جاتا ھے لیکن میں اسے حادثہ نہیں بلکہ قتل سمجھتا ہوں

برباد ہوجائیں وہ ہاتھ جنہوں نے بندوق چلائی

اندھی ہوجائیں وہ آنکھیں جنہیں ہوائی فائرنگ کے دوران معصوم انسان نظر نہیں آتے

لعنت ہو اس بندوق پر، اس کے چلانے والے پر، اس سے نکلنے والی گولی اور اس “فرسٹریٹد” ذہنیت پر جو ہوائی فائرنگ کرکے خُوش ہوتی ھے

اس پوسٹ کو ایک “پبلک سروس میسج” سمجھ کر مفادِ عامہ میں شیئر کردیجئے