ایبٹ آباد ماں نے 15 سال پہلے گم ہونے والے بچے کو پہچان لیا

ماں نے 15 سال بعد بچے کو پہچان لیا۔

تفصیلات  

ایبٹ آباد بیرنگلی 15 سال قبل لاپتہ ہونے والا یاسر منصف
عدالت نے حقیقی والدین کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے احکامات جاری کر دئے ۔۔۔۔۔۔۔۔بیرنگلی دب کے رہائیشی منصف کے 15 سال قبل 2 بچے پر سرار طور پہ لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے ایک کو 15 سال باد بیرنگلی گاؤں میں کباڑ اٹھاتے دیکھا گیا اور اس کی پہچان کی مگر لڑکا خود کو افغانی کھلاتا ھے جو افغان خاندان کے ساتھ ہری پور میں رہتا ھے کباڑ اٹھانے کا کام کرتا ھے ماں نے جب گاؤں میں اپنے لال کو دیکھا تو پہچان گئی بچپن میں یاسر کو سر پہ شدید چوٹ لگی تھی جس کا نشان بھی سر پہ موجود تھا دوسری طرف افغان فمیلی اسے اپنا بیٹا کہتی ھے جس پہ بگنوتر پولیس نے لڑکے کو عدالت پیش کیا عدالت نے لڑکے کا ڈی این اے کرانے کا حکم صادر فرمایا ھے جس کے باد حقیقی والدین کا پتہ چلے گا ۔۔۔۔۔

۔زارئع کے مطابق لڑکا گاؤں کی زبان اور ھندکو بولتا ھے افغانی پہ عبورنہیں رکھتا 15 سال باد بیرنگلی گاؤں آنا ماں کی دعا ھی کا اثر ھے۔

Missing child

 

After 15 Years Missing Child Found

Report

In district Abbottabad Baringli Yasir Munsif, who went missing 15 years ago
The court has ordered DNA tests to identify the real parents. Two years ago, two children, one of whom was mysteriously missing, were found missing 15 years ago by a resident of Barangali Dab. Year after year he was seen picking up rubbish in Barangali village and was identified but the boy feeds himself Afghani who lives in Haripur with an Afghan family and picks up rubbish. Yasir had a severe head injury which also had a mark on his head. On the other hand, the Afghan family calls him their son, on which the Bagnutar police presented the boy to the court. The real parents will be known after …

According to the source, the boy speaks the language of the village Hindko. He is not fluent in Afghani.