راولپنڈی: لڑکی نے لڑکی سے شادی کا اخرکار ڈراپ سین ہوگیا۔

لڑکی کا لڑکی سے شادی کا ڈراپ سین

 

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں لڑکی کے والد سید امجد کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئ تھی جس پر جسٹس صداقت علیخان نے سماعت کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ بینچ نے راولپنڈی کی تحصیل ٹیکسلا میں لڑکا بن کر لڑکے سے شادی کرنے کے کیس میں جنسی تشخیص کا میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تھا۔

عدالت عالیہ کے حکم کے مطابق عاصمہ بی بی (علی کاش) کا جنسی تشخیص کا میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا کا کہا تھا

عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ جنس کی تشخیص کراوانے کیلئے ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال کے سٹاف کا چار رکنی میڈیکل بورڈ بنایا جاۓ اور اگلی سماعت ہونے تک جنسی تشخیص کا ٹیسٹ کروا کر کر رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

عدالت میں سماعت سننےکے دوران علی آکاش نے بیان دیا تھا کہ میں عام مردوں کی طرح مکمل طور پر مرد ہوں, اور ایک عام شادی شدہ زندگی گزار رہا ہوں۔ آکاش کے ساتھ شادی کرنے والی لڑکی نے عدالت میں سماعت کے دوران بیان دیا تھا کہ میں آکاش کی بیوی ہوں اور شادی شدہ زندگی گزار رہی ہوں۔

رپورٹ میں بیایا گیا ہے کہ لڑکی کا شوہر ظاہر کرنے والی عاصمہ بی بی نامی لڑکی کا دعویٰ ہے, کہ اس نے اپنا نام کو اور جنس تبدیل کرکے اپنے آپ لڑکا بنا لیا ہے اور نیا نام آکاش رکھ لیا تھا۔ اس حوالے سے شادی کرنے والی دونوں لڑکیوں نے عدالت میں پیش ہوکر اپنے ثبوتوں کے طور پر دستاویزات بھی پیش کی تھیں۔ ان کاعذات میں عاصمہ بی نی نے عدالت میں اپنے لڑکے ہونے سے متعلق دعوے کی دستاویزات جمع کروائی تھیں۔

 

Rawalpindi Girl marriage with girl

عاصمہ بی بی نے عدالت کو بتایا تھا اس نے اپنی جنس تبدیل کروانے کے بعد نادرا سے باقاعدہ اپنا شناختی کارڈ بھی تبدیل کروایا۔

مزید بتایا گیا تھا کہ راولپنڈی کے کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈ نمبر 10 میں دونو لڑکیوں کے نکاح نامے کا اندراج بھی ہوا تھا۔ لیکن اس تمام واقعے کے بعد نیہا کے والد نے راولپنڈی ہائی کورٹ بینچ میں رٹ دائر کرائ تھی۔

نیہا بی بی کے والد نے عاصمہ بی بی کا دعویٰ ماننے سے صاف انکار کر چکے تھے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ عاصمہ بی بی کا پاکستان میں جنس تبدیل کرنا نہ ممکن ہے کیونکہ یہ ایک عیر شرعی کام ہے اور ہمارے ملک میں اسطرح کا کوئ ڈاکٹر موجود نہیں ہے جو جنس تبدیل کر سکے۔

اور آخر کا خود کو لڑکا کہنے والی عاصمہ بی بی (علی آکاش) نے عدالتی حکم پر میڈیکل کرونا پڑا جس کے نتیجے میں وہ اپنی جنس ‘لڑکا’ تو ثابت نہ کر سکی لیکن اسے اپنی بیوی نیہا علی کو طلاق دے دی۔

 

Report- 

RAWALPINDI: Asma Bibi (Ali Akash), who calls herself a boy, did not prove her gender as a ‘boy’ by getting medical treatment on a court order but divorced his wife Neha Ali.

According to details, Justice Sadaqat Ali Khan had recently heard a petition filed by the girl’s father Syed Amjad in the Lahore High Court Rawalpindi bench.

A Lahore High Court bench had ordered a medical test for sexual misconduct in a case of a boy marrying a girl in Taxila Tehsil of Rawalpindi.

The Supreme Court had ordered a medical examination of Asma Bibi (Ali Kash) for sexual diagnosis.

The court had ordered that MSDHQ Hospital should form a four-member medical board for sex diagnosis and submit a report to the court after conducting a sexual diagnosis test at the next hearing.

During the hearing, Ali Akash had stated in court that he was a Full-fledged man and married. The girl who married Akash had stated in court that I am Akash’s wife and I am living a married life.