علمائے کرام حکومتی فیصلے کے آگے دیواربن گۓ

اسلام آباد میں مندر تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، علماءکی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد:

مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے نیشنل پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو وارننگ دیتے ہیں، وہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر سے باز رہے ورنہ شدید رد عمل ہوگا، کسی بھی صورت مندر کی تعمیر نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور نظریہ پاکستان کے منافی ہے، حکومت اگر مندر کی تعمیر کیلئے زبر دستی کرے گی تو اسے شدید رد عمل کا سامنا بھی کرنا ہو گا ۔اس موقع پرامیر جے یو آئی (ف) مولانا عبدالمجید ہزاروی ، مفتی عبداللہ ،محمد کاشف چوہدری ،حافظ مقصود احمد، مولانا مفتی عبدالسلام، مولانا حمد اللہ ، مولانا محمد اویس ، مفتی سجاد و دیگر بھی موجود تھے ،۔ علمائے کرام نے مزید کہا کہ اسلامی تاریخ میں کوئی دلیل نہیں ملتی کہ نبی کریم ﷺ یا آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین ؓ یا ان کے بعد اسلامی ادوار میں کسی اسلامی حکومت نے شرک کا مرکز تعمیر کیا ہو۔

خصوصاً بتوں کا مرکز و معبد جو اسلام اور توحید کے سراسر منافی ہے، علمائے کرام نے کہا کہ حکومت اس مندر کو اپنے خزانے سے تعمیر کرانے جا رہی ہے اس خزانے کی بنیاد ہم مسلمانوں کے ٹیکس اور بل ہیں ہم اپنی کمائی سے شرک کا اڈہ تعمیر کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے، ہمارے پیسوں سے اگر مندر تعمیر ہوتا ہے تو قبر اور حشر میں ہم سے پوچھا جائے گا ، جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا، لہٰذا ہم حکومت کو مندر کی تعمیر کیلئے اجازت کسی بھیصورت میں نہیں دیں گے، اسلامی مملکت میں بتوں کے عبادت خانے کی تعمیر ناجائز ہے۔

حکومت اس کو روکنے کی پابند ہے ، حکومت اگر کسی وجہ سے مندر تعمیر کرنا بھی چاہتی ہے تو اس وجہ کو تمام مسالک کے سامنے رکھے ورنہ اسے کام سے باز رہ۔

 

Pakistani Ulmah stand against Notification

 

We will not allow construction of temples in Islamabad, joint press conference of Ulema

ISLAMABAD

 

: Scholars of different schools of thought in a joint press conference at the National Press Club said that they warn the government to refrain from building a temple in Islamabad or else there will be severe reaction. Because it is against the basic teachings of Islam and the ideology of Pakistan, if the government forcibly builds the temple.

 

It will also have to face a severe reaction. Mufti Abdullah, Muhammad Kashif Chaudhry, Hafiz Maqsood Ahmed, Maulana Mufti Abdul Salam, Maulana Hamdullah, Maulana Muhammad Owais, Mufti Sajjad and others were also present.

The scholars further said that there is no evidence in Islamic history that the Holy Prophet (PBUH) or the Rightly Guided Caliphs after him or any Islamic government in the Islamic period after him built a center of polytheism, especially the center of idols and the temple which Islam And it is totally against monotheism.

The scholars said that the government is going to build this temple from its own treasury. The basis of this treasury is the taxes and bills of the Muslims. We will not allow the construction of the base of shirk from our earnings.

If a temple is built with our money, we will be asked in the grave and in the resurrection, to which no one will have an answer, so we will not allow the government to build a temple under any circumstances, in an Islamic state. It is illegal to build an idol temple.

The government is obliged to stop it. If the government wants to build a temple for any reason, it should put it in front of all sects, otherwise it should be stopped.