قرآن کریم کی بے حرمتی پر عوام کے جذبات تحفظات اور سوالات ہیں

(تحریر۔۔شفیق صادق )ایبٹ آباد جیل میں عمران نامی قیدی کی جانب سے قرآن کریم کی بے حرمتی پر عوام کے جذبات تحفظات اور سوالات ہیں  کہ یہ ملزم اسی جرم میں پہلے قید ہوا پھر ہری پور جیل میں بھی یہی حرکت دوبارہ کی۔اسے ہر صورت سر عام سزائے موت دی جائے۔
واضح کیا جائے کہ اگر یہ ذہنی مریض تھا تو
قرآن مجید اسکے پاس کیسے آیا۔۔۔؟
یہ کیسا ذہنی مریض ہے جو صرف قرآن کریم کی بے حرمتی کرتا ہے کیا کبھی یہ دیگر پاگلوں والی حرکات کا مرتکب ہوا؟ علماء کرام گہرائی تک تحقیق کریں کہ کہیں ملزم کو بچانے کے لئے پاگل تو نہیں بنایا جا رہا ہے؟اس سارے معاملے کی اور خصوصاً توہین کے مرتکب عمران نامی قیدی کی شرعی حثیت اور سزا کیا ہے؟علماء اس پر فتویٰ جاری کریں.
جیل کی انتظامیہ کو غفلت برتنے پر سخت سزا دی جائے۔
علماء کرام اور انتظامیہ عوام کے سامنے تمام حقائق واضح کریں۔یہ تمام عوامی جذبات اور سوالات سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں ہیں
مسلمان کسی صورت بھی اسلام،مقدس ہستیوں،مقامات اور مقدس اوراق کی توہین ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔ایبٹ آباد کے واقعہ سے مسلمانوں کے دل انتہائی غمزدہ ہیں۔علماء کرام اور انتظامیہ شریعت کی روشنی میں اس معاملے کو حل کریں۔
عوام سے بھی گزارش ہے کہ انتظامیہ، مذاکراتی کمیٹی اور پولیس کے ذمہ داران بھی ہمارے جیسے مسلمان ہیں، ان پر یقین رکھیں اور شہر کے امن کو برباد نہ کریں۔
اسلام نبی قرآن پر ہماری جانیں قربان پر یہ انتہائی غیر مناسب رویہ جو اپنایا گیا ہے کہ شہر میں توڑ پھوڑ کی گئی اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی املاک کو جلایا گیا گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی یہ حرکات ہماری کمزور

معاشرت اور کمزور ایمان کو ظاہر کرتی ہیں۔
اللہ تعالی مجھ گناہ گار سمیت ہم سب کو اسلام قرآن اور نبی کا سچا عاشق باعمل مسلمان بنائے اور اسلام سے سچی محبت اور خدمت کرنے کی توفیق عطاف رمائے۔آمین ثم آمین

Medical Reports