مسلم لیگ ن کو پنجاب تک محدود کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں

مسلم لیگ ن کو پنجاب تک محدود کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ اور خیبر پختوانخواہ جو کبھی مسلم لیگ ن کا گڑھ ہوا کرتا تھا وہاں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کی پسند و ناپسند کی وجہ سے دن بدن کمزور ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے خیبر پختوانخواہ میں ن لیگ کے دیرینہ اور نظریاتی کارکنان سخت پریشان ہیں. ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخواہ کے سابق گورنر و وزیراعلیٰ سردار مہتاب عباسی نے اپنے؛ایک بیان میں کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر کارکنان کے تحفظات دور نہ ہوئے اور خیبر پختوانخواہ میں مسلم لیگ ن کو کمزور کرنے کی سازشیں برقراررہیں تو ہم بہت جلد مسلم لیگ ن خیبر پختون خواہ کا پشاور میں کنونشن طلب کریں گے۔ کیو نکہ ن لیگ کے صوبائی جنرل سیکرٹری دن بدن پارٹی کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ مسلم لیگ جو کہ ایک نظریاتی جماعت ہے اور میاں محمد نواز شریف اس کے قائد اور شہباز شریف صدر ہیں کو خیبر پختوانخواہ میں صوبائی جنرل سیکرٹری پاکٹ لیگ بنانے میں مصروف ہیں۔ جو بات ہمیں ہرگز قبول نہیں۔اور نہ ہی ہم ایسی کسی سازش کو کامیاب ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناراض نظریاتی کارکنان جن کی تعداد لاکھوں میں ہے پارٹی قیادت کی توجہ چاہتے ہیں۔ اور ہم سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اور ہر ضلع میں صوبائی قیادت کی پسند و ناپسند کی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ سردار مہتاب خان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرتخوانخواہ میں مسلم لیگ ن کی موجودہ صورتحال پر میں خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرسکتا۔ ہم نے گذشتہ تین دہائیوں میں دن رات محنت کرکے پارٹی کو صوبے میں مضبوط کیا اور اس کے لئے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی۔ مگر پارٹی کا جھنڈا نیچے نہیں ہونے دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ 2013ء کے مقابلے میں 2018ء میں مسلم لیگ ن کو خیبر تخوانخواہ سے بہت کم نشستیں ملیں جن کی صوبائی اسمبلی میں تعداد صرف پانچ ہے۔ اگر پسنداور ناپسند پر چلنے والی ن لیگ کی صوبائی قیادت کو روکا نہ گیا تو آئندہ انتخابات میں یہ پانچ نشستیں بھی شاید پارٹی حاصل نہ کرسکے۔