نیا قانون جسم کے اعضا کو عطیہ کرنا پڑے گا،میرا جسم حکومت کی مرضی ۔ ۔ ۔ ۔

نیا قانون جسم کے اعضا کو عطیہ کرنا پڑے گا،میرا جسم حکومت کی مرضی ۔ ۔ ۔ ۔

انگلینڈ میں ایک نیا قانون لاگو کیا گیا ہے جس میں مرنے کے بعد جسم کے اعضا کو نکال کر عطیہ کر دیئے جا ئیں گے اور یہ قانون ہر ایک پر لا گو ہو گا سوائے ان لوگوں کے جن وصیت میں یہ در ہو گا کہ ان کے اعضا کو نہ نکالا جائے۔اور یہ قانون اس بدھ سے عمل شروع ہو گیا۔انگلینڈ کے ڈاکٹروں کا مذید کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت تقریباً ہر سال 700 افراد کی زندگیاں بچائی جا سکیں گی
انگلینڈ کے ایک اخبار کے مطابق جسم عطیہ کر سے گزشتہ دنوں میں ایک حاشر نامی خاتون کی زندگی کو بچایا گیا تھا انکو پہلے سینے میں ایک چھوٹا سا انفیکشن تھا بعد میں وہ دل کے پٹھوں کو کمزور
کرنے لگ پڑا۔ڈاکٹرز ان کو دل کو ٹرانسپلانٹ کا بو لا ۔
انہی دنوں میں ایک شخص فوت ہو تھا جسنے اپنے اعضا کو عطیہ کرنے کی وصیت کی ۔اس کا دل حاشر کو لگایا گیا۔اسطرح حاشر کی جان بچ گئی۔
اس قانون کے بارے میں انگلینڈ کی مختلف رائے ہیں کئ تو اس قانون کو نہت اچھی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے مرنے کے بعد یہ جسم ہمارے کسی کام کا نہیں یہ گل سڑ جائے گا تو کسی اور کے کام کے اجائے کسی جان بچ جائے یہ ایک اچھی بات ہے۔
لیکن کچھ اس قانون کو لے کر عم اور غصے کا اظہار بھی کرتے نظر آرہے ہیں ان کے مطابق حکومت کی اس طرح کی قانون ساز ایک وحشیانہ عمل ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔یہ تمام خیالات کو لے کر لوگ سوشل میڈیا پر بحث ومباحثہ کر رہے ہیں۔